دہرادون، 19/جون(ایس او نیوز/ایجنسی) ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں کے تئیں اپنائے گئے انتہا پسندانہ رویہ اور اترکاشی کے پرولا قصبے میں ہنگامہ آرائی کے امکان کو دیکھتے ہوئے 35مسلم خاندانوں نے مستقل طور پر شہر چھوڑدیا ہے جبکہ 6مسلم خاندانوں نے عارضی طور پر شہر چھوڑ کر جاچکے ہیں۔
ہندی کے ایک نیوز پورٹل کے مطابق اترکاشی کی مقامی ہندوتوا تنظیموں نے لو جہاد کا الزام لگاتے ہوئے 15جون کو پرولا میں ہندو مہاپنچایت منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا- ساتھ ہی مسلم کمیونٹی کے دکانداروں کو پنچایت سے پہلے شہر چھوڑنے کی وارننگ دی تھی-
واضح رہے کہ اس معاملے میں 29مئی کو پرولا شہر میں ہندوتوا تنظیموں نے لو جہاد کے خلاف ایک ریلی بھی نکالی تھی- اس دوران مسلم دکانداروں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی- جس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی کے دکاندار اپنے اہل خانہ سمیت شہر سے نقل مکانی کرنے لگے- 15جون تک شہر کے تمام مسلم خاندان شہر چھوڑ چکے تھے، جن میں سے اکثر نے پرولا کو مستقل طور پر الوداع کہہ دیا تھا- تقریباً 18000کی آبادی والے اس شہر میں 200سے 250/ افراد کا تعلق مسلم کمیونٹی سے تھا- 14جون کی صبح تک زیادہ مسلمان شہر چھوڑ چکے تھے-کچھ لوگ 29مئی کی ریلی کے بعد مسلمانوں کی دکانوں پر لگائے گئے پوسٹروں کو اس کی وجہ سمجھتے ہیں - جس میں اسے 15جون سے پہلے شہر چھوڑنے کی دھمکی دی گئی تھی-
مسلم کمیونٹی کے اس اخراج پر پرولا کے وشو ہندو پریشد کے کارگزار صدر وریندر سنگھ راوت کہتے ہیں کہ ہم نے کسی کو شہر چھوڑنے کیلئے نہیں کہا ہے- جو گیا ہے وہ اپنی مرضی سے گیا ہے- وہ دھمکی آمیز پوسٹروں کیلئے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں- وہ کہتے ہیں کہ یہ پوسٹرز مسلمانوں نے خود اپنی دکانوں پر ہندوؤں کو بدنام کرنے کیلئے لگائے تھے-
وہیں پرولا سے بی جے پی جنرل سکریٹری راہل دیو نوتیال نے مسلم خاندانوں کی نقل مکانی کو درست مانتے ہیں- وہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ہماری دیو بھومی کو آلودہ کر رہے ہیں- یہاں آ کر وہ لینڈ جہاد اور لو جہاد کرتے ہیں، تو اچھا ہوا کہ وہ یہاں سے چلے گئے-